رات پھر خواب میں آکر مجھ سے
میری امَی نے کچھ سوال کئے
اُس سے پہلے مجھے دعا یہ دی
خدا کرے کہ تو سو سال جئے
اُن کی آنکھوں میں محبت بھی تھی
اور افسوس بھی تھا
ایک آنسو تھا اُن کی آنکھوں میں
جو چِلَاتا بھی تھا خاموش بھی تھا
مجھ سے پوچھا کہ بیٹے کیسے ہو
کوئی دقَت تو نہیں ہے تم کو
پھر کہا
تم کو معلوم ہے کیا؟
میں بڑی تکلیف میں ہوں
جب سے لیٹی ہوں سو نہیں پائی
تمہاری وجہ سے میں کُھل کے رو نہیں پائی
تیرے گناہ مجھے سانپ بن کے ڈ ستے ہیں
فرشتے آکر ہر روز فقرے کستے ہیں
تمہی بتاؤ بیٹا میں نے کیا کمی کی تھی
میں نے سمجھانے میں بیٹا کوئی کمی کی تھی
یا میری تربیت ادھوری تھی
کیوں بُرے کام روز کرتے ہو
کیوں نہیں اُس خدا سے ڈرتے ہو
جس نے تم کو یہ جان بخشی ہے
جس نے تم کو امان بخشی ہے
لوٹ کر جس کے پاس جانا ہے
کیا اسے منہ نہیں دِکھانا ہے
کیا تمہیں اس لئے پڑھایا تھا
کیاتمہیں سب یہی سکھایا تھا
کہ اپنے علم پر غرور کرو
اور اپنے نفس کو مسرور کرو
جب بھی بولو تو بس غلط بولو
ظلم دیکھو تو لب نہیں کھولو
چھوڑ کر دین بھول کر مذہب
اپنی اوقات نوٹ میں تولو
سچ بتاؤ کہ کیا یہ قصَہ ہے
کیا یہ انداز میری تربیَت کا حصَہ ہے
مجھکو افسوس نہیں جو مجھے تو بھول گیا
رنج یہ ہے کہ میرا جینا ہی فضول گیا
میں تو جی کے بھی روز مرتی ہوں
میں تجھے روز یاد کرتی ہوں
جس طرح جینے کا آغاز کیا ہے تو نے
اُسکے انجام سے میں ڈرتی ہوں
خدا کرے کہ تجھے اب بھی سمجھ آجائے
کوئی تو آ کے تجھے سیدھی راہ دکھا جائے
کہ اختتام ہو تیری گناہ کی شاموں کا
مجھے بھی اجر ملے تیرے نیک کاموں کا
No comments:
Post a Comment